وزارتِ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، 23 اکتوبر 2026 تک بھارت میں گندم کی بوائی 11,000 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جبکہ ایک سال پہلے اسی وقت یہ 27,000 ہیکٹر تھی۔ جنوب مغربی مون سون کی کمی کے بعد چند ریاستوں میں ابھی بوائی شروع ہوئی تھی۔

کم بارشوں کے بعد بھارت میں گندم کی بوائی شروع

گندم عموماً اکتوبر اور نومبر میں بوئی جاتی ہے اور مارچ اور اپریل میں اس کی کٹائی ہوتی ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار سے اس حتمی رقبے کا تعین نہیں ہوتا جہاں بوائی کی جائے گی۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق، بھارت میں جون سے ستمبر تک جنوب مغربی مون سون کی بارشیں معمول سے 13% کم رہیں۔ کم بارشوں سے مٹی میں نمی اور ذخائر اور نہروں میں پانی کی مقدار گھٹ سکتی ہے، جس سے بوائی میں تاخیر اور ایسی فصل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے جسے آبپاشی کے کئی دور درکار ہوتے ہیں۔

پنجاب اور راجستھان، جن کا مجموعی طور پر بھارت کے گندم کے رقبے میں تقریباً 31% حصہ ہے، میں بارشیں بالترتیب 38% اور 22% کم رہیں، جبکہ ستمبر کے آخر میں ذخائر میں پانی کی سطح معمول سے کم تھی۔

دیگر ربیع فصلوں کا زیرِ کاشت رقبہ بھی پیچھے

ربیع، یعنی موسمِ سرما کی فصلوں کی مجموعی بوائی 18.02 لاکھ ہیکٹر، یعنی 1.802 ملین ہیکٹر رہی، جبکہ ایک سال پہلے یہ 28.26 لاکھ ہیکٹر تھی۔ چاول، دالوں اور تیل دار بیجوں کا زیرِ کاشت رقبہ بھی کم رہا، جبکہ موٹے اناج کی بوائی 13,000 ہیکٹر سے بڑھ کر 23,000 ہیکٹر ہو گئی۔

وزارت نے جولائی سے جون تک جاری رہنے والے 2026–27 کے فصل سال کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 121 ملین ٹن مقرر کیا ہے۔ یہ گزشتہ فصل سال میں ریکارڈ 120.7 ملین ٹن پیداوار کے بعد مقرر کیا گیا ہے؛ نیا ہدف پیداوار کا نتیجہ نہیں ہے۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

دستبرداری

FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔