بنگلورو کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ اس کے مینیجر نے اسے کارکردگی کے جائزے سے پہلے استعفیٰ دینے کو کہا کیونکہ ٹیم کے بجٹ کے مقابلے میں اس کی تنخواہ بہت زیادہ تھی۔ پروگرام مینیجر نے Indian Workplace سب ریڈٹ پر ایک پوسٹ میں اس درخواست کا ذکر کیا۔
اہم نکات
- ملازم نے کہا کہ یہ درخواست دو ماہ پہلے مینیجر کی تبدیلی کے بعد سامنے آئی۔
- اس نے پوچھا کہ اگر وہ استعفیٰ دینے سے انکار کر دے اور کمپنی اس کی ملازمت ختم کر دے تو کیا ہو سکتا ہے۔
بنگلورو کے ملازم نے وقت کے انتخاب پر سوال اٹھایا
پروگرام مینیجر نے کہا کہ اسے کارکردگی کے جائزے اور اگلے تنخواہی دور سے پہلے استعفیٰ جمع کرانے کو کہا گیا تھا، جس کی تاریخ اس نے 24 اکتوبر بتائی۔ اس نے کہا کہ دی گئی وجہ اس کی موجودہ تنخواہ اور ٹیم کا بجٹ تھا، نہ کہ ناقص کارکردگی یا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل۔
بیان میں استعفیٰ دینے کی درخواست کا ذکر ہے، نہ کہ استعفیٰ مکمل ہونے یا ملازمت ختم کیے جانے کا۔ دستیاب بیان میں آجر کا جواب شامل نہیں ہے۔
پوسٹ پر ردِعمل
کئی تبصرہ نگاروں نے ملازم پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ نہ دے۔ ان کی تجاویز میں کمپنی سے باضابطہ نوٹس مانگنا، بات چیت کا ریکارڈ رکھنا اور دوسری ملازمتوں کی تلاش شامل تھیں۔ یہ تبصرہ نگاروں کی تجاویز تھیں، آجر کے ممکنہ اقدام کے بارے میں بیانات نہیں۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کی مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشاورت نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔





تبصرے
احترام سے پیش آئیں۔ اسپیم، کسی اور کی شناخت اختیار کرنا یا نجی رسائی کی معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ عام پوسٹس اور تبصرے فوراً ظاہر ہوتے ہیں؛ مشکوک لنکس جائزے کے لیے روک لیے جاتے ہیں۔
براہ کرم انتظار کریں...