بھارت کی سپریم کورٹ نے 26 اکتوبر 2026 کو مہاراشٹر کی ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کو چیلنج کرنے والی درخواست کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا اور مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔

مہاراشٹر کی ووٹر فہرستیں تنازعے میں

درخواست ارون آنندگیری نے دائر کی، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور صحافی ہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے معاملے کو 5 نومبر کے لیے مقرر کیا۔

آنندگیری کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اروند دتار نے کہا کہ ممبئی اور پونے میں تعمیرِ نو کے دوران عارضی طور پر منتقل ہونے والے ووٹروں کے نام یہ کہہ کر حذف کر دیے گئے کہ وہ نہیں ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 12.2 ملین ووٹروں کے نام ”منطقی تضادات“ کی بنیاد پر فہرست سے خارج کیے گئے۔

درخواست میں نظرثانی روکنے کی استدعا

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کے معاملے کا فیصلہ کرنے تک نظرثانی معطل رکھی جائے اور نظرثانی سے پہلے کی فہرست میں شامل کسی بھی ووٹر کو خارج یا حذف نہ کیا جائے۔ عدالت نے نوٹس جاری کیے، لیکن ماخذ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نے ان درخواستوں کو منظور کیا۔

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کے مطابق، ریاست کے 97,854,049 رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 20,688,487، یعنی 21.14%، مسودہ فہرستوں سے خارج کر دیے گئے، کیونکہ کارروائی کے دوران انہیں ان کے فراہم کردہ پتے پر تلاش نہیں کیا جا سکا۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

ڈس کلیمر

FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کی مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشاورت نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔