GSMA کے ڈائریکٹر جنرل وویک بدریناتھ نے کہا کہ آن لائن فراڈ کے ضابطوں کا دائرہ صرف ٹیلی کام آپریٹرز تک محدود رہنے کے بجائے وسیع تر ڈیجیٹل ایکو سسٹم کا احاطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورکس اور بینکوں سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل یکساں طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اہم نکات
- بدریناتھ نے کہا کہ فراڈ میں ٹیلی کام نیٹ ورکس، سوشل پلیٹ فارمز اور بینک شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری اہم ہے۔
- بھارت کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے فراڈ اور سائبر دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن شعبہ جاتی ریگولیٹرز اب بھی اپنے قواعد الگ الگ نافذ کرتے ہیں۔
- GSMA کے سربراہ نے سب کے لیے مناسب سروس معیار برقرار رکھتے ہوئے، ادائیگی پر مبنی 5G کاروباری خدمات تیار کرنے کے لیے مزید لچک کا بھی مطالبہ کیا۔
مختلف شعبوں میں آن لائن فراڈ کے ضابطے
بدریناتھ نے کہا کہ آن لائن فراڈ کا کوئی ایک فریق حل پیش نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، جعل ساز لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے ٹیلی کام خدمات، انہیں لبھانے کے لیے سوشل نیٹ ورکس اور ادائیگیاں وصول کرنے کے لیے بینک استعمال کر سکتے ہیں۔
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا، یا TRAI، نے فراڈ اور سائبر دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیے ریگولیٹرز کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تاہم، قواعد اب بھی الگ الگ شعبہ جاتی ریگولیٹرز کے اختیار میں ہیں۔
GSMA کے سربراہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایکو سسٹم کے صرف ایک حصے پر ضابطے مرکوز کرنے سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے تبصرے وسیع تر نقطۂ نظر اپنانے کی اپیل ہیں، نئے قواعد کا اعلان نہیں۔
مزید لچکدار 5G خدمات کی کوشش
بدریناتھ نے کہا کہ ٹیلی کام کے قواعد آسان بنائے گئے ہیں، لیکن اب بھی ان کا دائرہ وسیع ہے۔ انہوں نے حکومتوں اور ریگولیٹرز پر زور دیا کہ وہ مزید ایسی تبدیلیوں پر گفتگو جاری رکھیں جو صنعت کی ترقی میں مدد دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ضابطوں کو نتائج پر توجہ دینی چاہیے اور آپریٹرز کو کاروباری اداروں کے لیے 5G خدمات تیار کرنے کی گنجائش دینی چاہیے، جن میں فیکٹریوں، ہسپتالوں اور دور دراز نگہداشت کی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ نیٹ ورک سلائسنگ—جو آپریٹرز کو مختلف نوعیت کی خدمات تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے—ان کے نزدیک ایک اہم خصوصیت ہے۔
سروس کا معیار اور نیٹ نیوٹرلٹی
بھارت میں نیٹ ورک سلائسنگ پر بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ بعض متعلقہ فریقوں کو تشویش ہے کہ اسے نیٹ نیوٹرلٹی کے اصولوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بدریناتھ نے کہا کہ آپریٹرز کو زیادہ ادائیگی کرنے پر آمادہ صارفین کو کاروباری ایپلی کیشنز کے لیے بہتر معیار کی خدمات پیش کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ بنیادی سروس سب کے لیے مناسب رہنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریٹرز کو سروس کے معیار کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرح سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔





تبصرے
احترام سے پیش آئیں۔ اسپیم، کسی اور کی شناخت اختیار کرنا یا نجی رسائی کی معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ عام پوسٹس اور تبصرے فوراً ظاہر ہوتے ہیں؛ مشکوک لنکس جائزے کے لیے روک لیے جاتے ہیں۔
براہ کرم انتظار کریں...