25 اکتوبر 2026 تک برینٹ خام تیل 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ رہا تھا، جس سے بھارت میں مہنگائی اور سبسڈی کے اخراجات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی۔ ماہرینِ معاشیات نے کہا کہ حکومت کی زیادہ آمدنی اور دیگر مالی وسائل کچھ دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اہم نکات
- بھارت نے 2026–27 میں کھاد کی سبسڈی کے لیے ₹1.70 لاکھ کروڑ مختص کیے؛ پہلے پانچ ماہ میں خرچ ₹1.03 لاکھ کروڑ سے تجاوز کر گیا۔
- EY India کے ڈی۔ کے۔ سریواستو نے اندازہ لگایا کہ RBI کی بنیادی مفروضہ قیمت سے 20 ڈالر فی بیرل کا مسلسل اضافہ نمو کم اور مہنگائی زیادہ کر سکتا ہے۔
- ماہرِ معاشیات سنیل کمار سنہا نے کہا کہ آمدنی اور دیگر حفاظتی وسائل مالیاتی خسارے کو ہدف کے قریب رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
برینٹ خام تیل اور بھارت کے معاشی امکانات
سعودی-حوثی کشیدگی میں اضافے کے دوران قیمت 120 ڈالر کے قریب پہنچ رہی تھی۔ دستیاب قیمت کی معلومات میں برینٹ کی قیمت میں تبدیلی کی مقدار بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس تبدیلی کا کتنا حصہ ان کشیدگیوں کے باعث تھا۔
EY India کے چیف پالیسی مشیر سریواستو کو توقع ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران کچھ عرصے تک خام تیل 115 سے 120 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہے گا۔ یہ ایک پیش گوئی ہے، مستقبل کی قیمت کی تصدیق نہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا کے مالی سال 2026–27 کی دوسری ششماہی کے تخمینوں میں خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل فرض کی گئی تھی۔ سریواستو نے اندازہ لگایا کہ مالی سال کے باقی عرصے میں اس بنیادی مفروضے سے 20 ڈالر کا مسلسل اضافہ حقیقی GDP نمو کو 7.1% سے گھٹا کر 7% اور صارفین کی مہنگائی کو 5.2% سے بڑھا کر 5.7% کر سکتا ہے۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| RBI کی خام تیل سے متعلق مفروضہ قیمت | 2026–27 کی دوسری ششماہی کے تخمینوں کے لیے 95 ڈالر فی بیرل |
| کھاد کی سبسڈی کا بجٹ | 2026–27 کے لیے ₹1.70 لاکھ کروڑ |
| کھاد کی سبسڈی پر خرچ | پہلے پانچ ماہ میں ₹1.03 لاکھ کروڑ سے زیادہ |
| RBI کی جانب سے منافع کی منتقلی | ₹2.87 لاکھ کروڑ |
| مالیاتی خسارے کا ہدف | 2026–27 کے لیے GDP کا 4.3% |
سبسڈی کے اخراجات اور بجٹ کے حفاظتی وسائل
کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے مطابق مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں کھاد کی سبسڈی پر خرچ ₹1.03 لاکھ کروڑ سے زیادہ رہا، جبکہ پورے سال کے بجٹ کا تخمینہ ₹1.70 لاکھ کروڑ تھا۔ گھریلو LPG سلنڈروں کی قیمتیں بھی بڑھائی گئی ہیں، تاہم فی سلنڈر کم وصولی تقریباً ₹327 برقرار ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کے پروفیسر سنہا نے اندازہ لگایا کہ کھاد کی سبسڈی میں ممکنہ اضافہ 2026–27 کے مالیاتی خسارے کو GDP کے 0.4 سے 0.5% تک بڑھا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں، اثاثوں کی فروخت، RBI کے منافع اور اقتصادی استحکام فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کا خسارے کا 4.3% ہدف اب بھی قابل حصول دکھائی دیتا ہے۔
India Ratings & Research کے چیف ماہرِ معاشیات ڈی۔ کے۔ پنت نے بھی ایندھن اور کھاد کے بڑھتے اخراجات کی نشاندہی کی، تاہم کہا کہ ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنیاں، نیز سرمایہ کاری سے دستبرداری اور اثاثوں کی نقد کاری سے ممکنہ آمدنی، حکومت کی مالی پوزیشن کو سہارا دے سکتی ہیں۔
مزید خبریں پڑھیں
اعلانِ دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔





تبصرے
احترام سے پیش آئیں۔ اسپیم، کسی اور کی شناخت اختیار کرنا یا نجی رسائی کی معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ عام پوسٹس اور تبصرے فوراً ظاہر ہوتے ہیں؛ مشکوک لنکس جائزے کے لیے روک لیے جاتے ہیں۔
براہ کرم انتظار کریں...