حوثی حملوں کے بعد دو ہفتے کی بندش کے بعد ریاض ایئرپورٹ کو 25 اکتوبر 2026 کو دوبارہ کھولنے کا طے تھا، جبکہ سعودی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور رہائشیوں کو فضائی خطرے سے متعلق انتباہات موصول ہوئے۔

اہم نکات

  • ایئرپورٹ نے کہا کہ اتوار کو پروازیں بحال ہو جائیں گی، اور پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ دن کے اوائل میں ایک طیارے نے پرواز بھری۔
  • سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک لیا۔
  • حوثی ترجمان نے ایئرلائنز اور مسافروں کو ایئرپورٹ استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے اسے فوجی ہدف قرار دیا۔

ریاض ایئرپورٹ کی دوبارہ افتتاحی پروازیں مہلک حملے کے بعد شروع

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے کہا کہ دو ہفتے کی بندش کے بعد خدمات دوبارہ شروع ہوں گی۔ پروازوں کی نگرانی کی ویب سائٹ Flight Radar نے اتوار کی صبح ایک طیارے کو پرواز بھرتے دکھایا، تاہم دستیاب معلومات سے بحال شدہ کارروائیوں کی مکمل حد واضح نہیں ہوئی۔

حوثیوں نے ایئرپورٹ پر بار بار حملے کیے ہیں۔ اکتوبر میں ایک حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

مزید حملوں سے سعودی سفر متاثر

اتوار کی صبح ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رہائشیوں کو انتباہی پیغامات موصول ہوئے جن میں فضائی حملے کے خطرے سے خبردار کیا گیا اور انہیں کسی محفوظ جگہ پر رہنے کی تاکید کی گئی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل اور دارالحکومت کے علاقے میں دو ڈرونز کو روک لیا۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی ایئرلائنز، نیز ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو اس تنصیب کے استعمال سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ بدستور فوجی ہدف ہے۔

حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے تین ایئرپورٹس، توانائی کی تنصیبات، ایک پائپ لائن اور ایک ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ ماخذ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان اہداف کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ حملوں نے سعودی عرب میں ایئرلائنز، کاروباروں اور رہائشیوں کو متاثر کیا ہے۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

اعلانِ دستبرداری

FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ کریں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔