27 اکتوبر 2026 کو روپے کی شرحِ مبادلہ معمولی مضبوط ہو کر 95.11 فی امریکی ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ بندش 95.18 تھی۔ تاجروں نے اس کی وجہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے ممکنہ ڈالر فروخت کو قرار دیا۔

روپے کی شرحِ مبادلہ 95.25 سے نیچے برقرار

منگل کو بھارتی کرنسی 95.08 سے 95.25 فی ڈالر کے درمیان رہی۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ آر بی آئی کی ڈالر فروخت نے 95.25 کے قریب مزید گراوٹ کو محدود رکھا۔ ایک تاجر نے کہا کہ مرکزی بینک نے سرکاری بینکوں کے ذریعے مداخلت کی۔

یہ مداخلت تاجروں کا اندازہ تھا؛ ماخذ نے مرکزی بینک کی جانب سے اس کی تصدیق فراہم نہیں کی۔ فی ڈالر روپے کی کم شرح بھارتی کرنسی کی مضبوطی کی نشاندہی کرتی ہے۔

تیل کی قیمتیں اور ڈالر کی طلب

تیل کی بلند قیمتوں اور غیر ملکی فنڈز کے اخراج کے باوجود روپیہ مضبوط ہوا۔ منگل کو برینٹ فیوچرز تقریباً 116 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے۔

نجی شعبے کے ایک بینک کے تاجر نے کہا کہ کاروبار پر بڑے پیمانے پر ڈالر کے ممکنہ اخراج کی توقعات کا گہرا اثر تھا، جو غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی تخصیص سے وابستہ تھا، نیز تیل کمپنیوں کی ڈالر طلب بھی اثرانداز ہو رہی تھی۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

دستبرداری

FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔