عام آدمی پارٹی کے قانون ساز سنجے سنگھ نے 27 اکتوبر 2026 کو کہا کہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد میں اتر پردیش کی 150–200 نشستوں کے لیے کانگریس کا مبینہ مطالبہ غیر معقول تھا۔

اتر پردیش کی نشستیں اور اتحاد پر بات چیت

بھارت کی راجیہ سبھا کے رکن سنگھ نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر زور دیا کہ وہ انتخابی کارکردگی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے دو نشستیں اور تقریباً 2.5% ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ سماج وادی پارٹی نے 111 نشستیں جیتی تھیں۔

سنگھ نے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو کو آپس میں طے کرنا چاہیے کہ کانگریس کو کتنی نشستیں ملنی چاہئیں۔ ان کے تبصروں میں اس مطالبے کو کانگریس سے منسوب کیا گیا؛ ماخذ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آیا جماعتوں کے درمیان کوئی معاہدہ طے پایا تھا۔

ہریانہ میں مذاکرات کا حوالہ

سنگھ نے ہریانہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان نشستوں کی تقسیم کے ناکام مذاکرات کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا الزام تھا کہ کانگریس نے ابتدا میں اے اے پی کو چھ نشستیں دینے پر بات کی، پھر پیشکش کم کرکے چار اور بالآخر دو نشستیں کر دی۔

سنگھ نے کہا کہ اے اے پی نے اس کے بعد ہریانہ کا انتخاب آزادانہ طور پر لڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معقول مطالبات اور اتحادی جماعتوں کو جگہ نہ دینے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

دستبرداری

FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ کریں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر توثیق نہیں ہے۔