سلک روڈ بٹ کوائن کیس اکتوبر 2013 میں اس آن لائن مارکیٹ پلیس کی بندش کے بعد بھی طویل عرصے تک جاری رہا۔ ایف بی آئی نے اندازہ لگایا تھا کہ اپنے دورِ سرگرمی میں اس پلیٹ فارم پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے لین دین ہوئے، جبکہ اس سے متعلق کرپٹو کرنسی کی بازیابیاں کئی برس بعد تک جاری رہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بانی راس البرچٹ کو 21 جنوری 2025 کو صدارتی معافی دی، جب وہ وفاقی جیل میں گیارہ برس سے زیادہ گزار چکے تھے۔

اہم نکات

  • سلک روڈ 2011 سے 2013 تک فعال رہا اور اس نے گمنام براؤزنگ کو بٹ کوائن کی ادائیگیوں کے ساتھ جوڑا۔
  • 2022 میں اعلان کردہ ایک بڑی بازیابی میں وہ بٹ کوائن شامل تھا جو دراصل نومبر 2021 میں ضبط کیا گیا تھا۔
  • جنوری 2025 میں البرچٹ کو دی گئی معافی سے ضبط شدہ کرپٹو کرنسی کی ملکیت واپس نہیں ملی۔

فہرستِ مضامین

سلک روڈ بٹ کوائن مارکیٹ پلیس کیسے کام کرتا تھا

راس البرچٹ نے فروری 2011 میں ڈریڈ پائریٹ رابرٹس کے نام سے سلک روڈ کا آغاز کیا۔ اس مارکیٹ پلیس نے ٹور نیٹ ورک استعمال کیا اور ادائیگیوں کے لیے بٹ کوائن قبول کیا؛ اس کی مصنوعات کے سب سے بڑے زمرے میں کنٹرول شدہ منشیات شامل تھیں۔

اس کے تجارتی ماڈل میں ادائیگیوں کی کارروائی کے ساتھ ایسے طریقۂ کار بھی شامل تھے جن کا مقصد فرضی ناموں سے کام کرنے والے خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان اعتماد قائم کرنا تھا۔ البرچٹ لین دین پر کمیشن لیتا تھا، جبکہ فروخت کنندگان کی درجہ بندیاں خریداروں کو ان کا جائزہ لینے میں مدد دیتی تھیں۔

ایف بی آئی کا تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے لین دین کا تخمینہ مارکیٹ پلیس کی تاریخی سرگرمیوں کو بیان کرتا ہے، نہ کہ اس میں شامل بٹ کوائن کی موجودہ قدر کو۔ لین دین کا حجم اس رقم سے بھی مختلف ہوتا ہے جو بالآخر حکام نے بازیاب کی۔

وفاقی ایجنٹوں نے البرچٹ کو 1 اکتوبر 2013 کو سان فرانسسکو کی ایک عوامی لائبریری میں گرفتار کیا؛ اس وقت اس کا لیپ ٹاپ کھلا اور اَن لاک تھا۔ اگلے روز عوامی طور پر بندش کا اعلان کیا گیا۔ 2015 میں وفاقی جیوری نے اسے سات الزامات میں مجرم قرار دیا، جن میں منشیات کی اسمگلنگ کی سازش اور منی لانڈرنگ شامل تھے۔

جزوتفصیلات
ٹوراس نے وہ نیٹ ورک فراہم کیا جس کے ذریعے صارفین گمنام طور پر مارکیٹ پلیس تک رسائی حاصل کرتے تھے۔
بٹ کوائنیہ مارکیٹ پلیس کی واحد ادائیگی کرنسی تھی۔
ایسکرواس میں خریداروں کے بٹ کوائن ترسیل کی تصدیق تک رکھے جاتے، پھر ادائیگی فروخت کنندگان کو جاری کی جاتی۔

بندش کے بعد بھی بٹ کوائن کی بازیابیاں جاری رہیں

محکمۂ انصاف کے نومبر 2022 کے ضبطی کے اعلان میں ایک ایسی بازیابی کی تفصیل دی گئی جو ایک سال پہلے ہوئی تھی: 9 نومبر 2021 کو حکام نے جیمز ژونگ کے گھر سے تقریباً 50,676 بٹ کوائن ضبط کیے۔ یہ گھر جارجیا کے شہر گینسویل میں واقع تھا۔ محکمے نے اس ضبطی کی اُس وقت کی مالیت 3.36 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی۔

ژونگ نے 4 نومبر 2022 کو وائر فراڈ کا جرم قبول کیا۔ استغاثہ کے مطابق، اس نے ستمبر 2012 میں سلک روڈ کے رقم نکالنے کے نظام سے فائدہ اٹھا کر تقریباً 50,000 بٹ کوائن غیر قانونی طور پر حاصل کیے۔ یہ مارکیٹ پلیس سے چوری کا ایک الگ کیس تھا، نہ کہ اس کے سرورز کی اصل ضبطی۔

حکام نے 2020 میں سلک روڈ سے منسلک ایک الگ ضبطی میں تقریباً 69,370 بٹ کوائن بھی بازیاب کیے۔ بعد میں ہونے والی یہ بازیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پلیٹ فارم کی بندش اور حکومت کی اثاثے بازیاب کرنے کی کوششوں کو الگ الگ واقعات سمجھنا چاہیے۔

ژونگ کیس میں محکمۂ انصاف نے کرپٹو کرنسی کی لین دین کی سراغ رسانی کے ساتھ روایتی پولیس کارروائی کو بھی اہم قرار دیا۔ بٹ کوائن کا لین دین کا ریکارڈ تفتیشی ثبوت فراہم کر سکتا تھا، خواہ مارکیٹ پلیس کے شرکا نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی ہو۔

2025 کی معافی اور تاریخی ریکارڈ کی حدود

ٹرمپ نے 21 جنوری 2025 کو البرچٹ کو مکمل اور غیر مشروط معافی دی۔ اس معافی سے اس کی قید ختم ہوئی، لیکن ضبط شدہ کرپٹو کرنسی کی ملکیت واپس نہیں ملی۔

معافی، فوجداری کارروائی اور اثاثوں کی ضبطی کیس کے الگ الگ حصے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا گمراہ کن ہوگا کہ معافی کے نتیجے میں حکام کی بازیاب کردہ بٹ کوائن واپس کر دی گئی، یا یہ فرض کرنا کہ ضبط شدہ اثاثے فروخت کرنے کی اجازت اس بات کا ثبوت ہے کہ فروخت مکمل ہو چکی تھی۔

نتیجہ

سلک روڈ کی تاریخ تین مراحل میں تقسیم ہوتی ہے: مارکیٹ پلیس کی بندش، برسوں تک جاری رہنے والی کرپٹو کرنسی کی بازیابیاں، اور 2025 میں البرچٹ کو دی گئی معافی۔ اثاثوں کی بعد میں تلفی یا فروخت سے متعلق کسی بھی پیش رفت کی الگ سے تصدیق درکار ہوگی؛ تاریخی ضبطی کے اعلانات سے صرف یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اب بھی حکومت کی تحویل میں کیا باقی ہے۔

مزید خبریں پڑھیں

FinanceVelix کی مزید خبریں

دستبرداری

یہ FinanceVelix مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور اقتصادی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر توثیق نہیں ہے۔