16 اکتوبر 2026 کو ایشیائی تجارت کے آغاز میں یورو کی بحالی کو تقویت ملی، جبکہ ڈالر پانچ ہفتوں میں پہلی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ مشترکہ کرنسی 1.1210 ڈالر پر ٹریڈ ہوئی اور 17 ماہ کی کم ترین سطح سے بحال ہوئی۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی گرتی ہوئی ییلڈز اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے متعلق خدشات نے ڈالر کی حالیہ پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالی۔
اہم نکات
- مسلسل چار ہفتوں کے اضافے کے بعد ڈالر انڈیکس 0.14% کی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔
- AI کی مالی اعانت سے متعلق خدشات اسٹاکس سے نکل کر کریڈٹ مارکیٹ تک پھیل گئے، جبکہ سرمایہ کاروں نے امریکی ٹریژری بانڈز خریدے۔
- ستمبر کی کمزور روزگار رپورٹ کے بعد آسٹریلوی ڈالر نے عمومی رجحان سے انحراف کیا۔
فہرستِ مضامین
- پانچ ہفتوں کی گراوٹ کے بعد یورو کی بحالی سے محدود راحت
- روزگار میں کمی کے باعث آسٹریلوی ڈالر کا مختلف رخ
- ابتدائی تجارتی جائزے کے بعد فیڈ کی تقریر متوقع
- نتیجہ
پانچ ہفتوں کی گراوٹ کے بعد یورو کی بحالی سے محدود راحت
گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران فرانس کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور سردیوں میں توانائی کی قلت کے خدشات کے باعث یورو ڈالر کے مقابلے میں 3% سے زیادہ گر چکا تھا۔ اس لیے جمعے کی بحالی نے کچھ راحت تو دی، لیکن اس گراوٹ کا بیشتر حصہ واپس نہیں پلٹا۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 102.07 پر تھا۔ اسی دوران سرمایہ کاروں کے سرکاری بانڈز کی جانب منتقل ہونے سے امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ ایک سال سے زیادہ عرصے کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی راہ پر تھی۔
یہ تبدیلی AI اسٹاکس میں تیز گراوٹ اور کریڈٹ مارکیٹ کے بعض حصوں پر دباؤ کے ساتھ دیکھی گئی۔ سرمایہ کار یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ آیا ڈیٹا سینٹر چلانے والی کمپنیاں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے اتنی تیزی سے منافع بخش بن سکیں گی۔
Spectra Markets کے صدر Brent Donnelly نے مؤقف اختیار کیا کہ AI میں سرمایہ جاتی اخراجات کی تیزی کا بڑے پیمانے پر ازسرِنو جائزہ ڈالر کو کمزور کر دے گا۔ ان کی رائے اس خطرے پر مرکوز تھی کہ سرمایہ کار امریکی کرنسی پر بڑی تعداد میں لگائی گئی اپنی پوزیشنیں ختم کر سکتے ہیں؛ یہ مارکیٹ کا تجزیہ تھا، کوئی طے شدہ پیش گوئی نہیں۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| جاپانی ین | ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 158.13 ین؛ ہفتے کے دوران ڈالر 0.2% نیچے تھا۔ |
| پاؤنڈ اسٹرلنگ | ایک پاؤنڈ کے مقابلے میں 1.3270 ڈالر؛ ہفتے کے دوران 0.3% اضافہ۔ |
| نیوزی لینڈ ڈالر | 0.5621 ڈالر؛ ہفتہ وار 0.1% اضافے کی راہ پر۔ |
روزگار میں کمی کے باعث آسٹریلوی ڈالر کا مختلف رخ
ابتدائی تجارت میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 ڈالر پر مستحکم تھا، لیکن ہفتے کے دوران 0.8% کی گراوٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جمعرات کے کمزور روزگار کے اعدادوشمار کے باعث مارکیٹوں نے آسٹریلیا میں ایک اور شرحِ سود اضافے کی توقعات گھٹا دیں۔
آسٹریلوی ادارۂ شماریات کی ستمبر کی افرادی قوت سے متعلق رپورٹ کے مطابق موسمی اثرات سے ایڈجسٹ شدہ روزگار میں 39,300 کی کمی ہوئی اور افرادی قوت میں شمولیت کی شرح 0.2 فیصد پوائنٹ گھٹ کر 66.8% رہ گئی۔ ادارے نے خبردار کیا کہ قلیل مدتی تبدیلیوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے، اور کہا کہ رجحانی اعدادوشمار بنیادی مزدور منڈی کی صورتِ حال کو بہتر طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، برطانیہ کی معیشت میں اگست کے دوران غیر متوقع طور پر 0.1% نمو دکھانے والے اعدادوشمار کے بعد پاؤنڈ ہفتہ وار اضافے کی راہ پر تھا۔ نیوزی لینڈ ڈالر بھی معمولی ہفتہ وار اضافے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ابتدائی تجارتی جائزے کے بعد فیڈ کی تقریر متوقع
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین Kevin Warsh کو 16 اکتوبر کو 0330 GMT پر بینکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنا تھا۔ ان کرنسی قیمتوں کے وقت ان کا خطاب ابھی ہونا باقی تھا۔
CME FedWatch کے مطابق اکتوبر کے آخر میں شرحیں برقرار رہنے کا امکان 72% تھا، جبکہ ایک ماہ پہلے یہ 53% تھا۔ اس ہفتے توقع سے زیادہ مہنگائی کے امریکی اعدادوشمار کے بعد شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھی تھیں، پھر فیڈ حکام کے اس اشارے پر کم ہو گئیں کہ وہ مزید وضاحت کا انتظار کر سکتے ہیں۔
Commonwealth Bank of Australia کی کرنسی حکمتِ عملی کار Carol Kong نے کہا کہ اکتوبر کے فیصلے کے حوالے سے Warsh کی ترجیحات کے کسی بھی اشارے سے شرحِ سود کی توقعات اور ڈالر دونوں میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
نتیجہ
یورو کی بحالی اس سے پہلے ہونے والی گراوٹ کے مقابلے میں محدود رہی۔ فیڈ کے اکتوبر کے فیصلے سے متعلق اشاروں کے لیے Warsh کا بینکاک میں طے شدہ خطاب فوری طور پر نظر رکھنے والا اگلا اہم واقعہ تھا۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت کے وقت کسی اہل ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔




