اڈانی ٹوٹل گیس نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے 173.27 کروڑ روپے کا مجموعی خالص منافع رپورٹ کیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5.9% زیادہ ہے۔ 22 اکتوبر کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق آپریشنز سے آمدنی 33.8% بڑھ کر 2,109.65 کروڑ روپے ہوگئی، لیکن اخراجات میں زیادہ تیز اضافے نے منافع میں اضافے کو محدود رکھا۔
اہم نکات
- Q2 FY27 میں مجموعی اخراجات 38.1% بڑھے، جو آمدنی کی نمو سے زیادہ تھے۔
- مضبوط CNG طلب اور نیٹ ورک کی توسیع کے باعث اسٹینڈ اَلون گیس کے حجم میں 12% اضافہ ہوا۔
- CEO سنجے پنڈیتا یکم نومبر کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر بننے والے ہیں، جو شیئر ہولڈرز کی منظوری سے مشروط ہے۔
فہرستِ مضامین
- اڈانی ٹوٹل گیس کی آمدنی کو بلند ان پٹ لاگت کا سامنا
- CNG کی طلب سے گیس کے حجم میں توسیع
- EV چارجنگ اور بایوماس آپریشنز میں وسعت
- قیادت کی تبدیلی نومبر میں طے
- نتیجہ
اڈانی ٹوٹل گیس کی آمدنی کو بلند ان پٹ لاگت کا سامنا
مجموعی خالص منافع Q2 FY26 کے 163.49 کروڑ روپے سے بڑھا، جبکہ آمدنی 1,576.38 کروڑ روپے سے بڑھی۔ کل اخراجات 1,369 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,890.2 کروڑ روپے ہوگئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ منافع کی نمو فروخت میں اضافے سے پیچھے کیوں رہی۔
کمپنی کے Q2 اور H1 FY27 کے نتائج کے اعلان میں الگ سے اسٹینڈ اَلون EBITDA 340 کروڑ روپے بتایا گیا، جو 12% زیادہ ہے، جبکہ ٹیکس کے بعد اسٹینڈ اَلون منافع 167 کروڑ روپے رہا، جو 3% زیادہ ہے۔ یہ اعداد مجموعی منافع اور آمدنی کے اعداد سے مختلف رپورٹنگ دائرۂ کار کے ہیں۔
اسٹینڈ اَلون بنیاد پر قدرتی گیس کی لاگت میں 43% اضافہ ہوا۔ کمپنی نے اس کی وجوہ میں زیادہ حجم، برینٹ سے منسلک بلند قیمتیں، پولڈ گیس سپورٹ کا خاتمہ اور مغربی ایشیا کا جاری بحران بتائے۔
CEO سنجے پنڈیتا نے کہا کہ کرنسی کی قدر میں کمی اور ایڈمنسٹرڈ پرائسنگ میکانزم کے تحت مختص مقدار میں کمی نے بھی آپریٹنگ ماحول کو مزید مشکل بنا دیا۔ ان کے مطابق طویل مدتی معاہدوں، لچکدار مارکیٹ خریداری اور مرحلہ وار قیمتوں کے امتزاج سے لاگت سنبھالنے اور سپلائی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| اسٹینڈ اَلون CNG حجم | Q2 FY27: 223 ملین معیاری مکعب میٹر؛ Q2 FY26: 191 ملین؛ 17% اضافہ۔ |
| اسٹینڈ اَلون PNG حجم | Q2 FY27: 92 ملین معیاری مکعب میٹر؛ Q2 FY26: 89 ملین؛ 3% اضافہ۔ |
| اسٹینڈ اَلون پہلی ششماہی EBITDA | H1 FY27: 621 کروڑ روپے؛ H1 FY26: 603 کروڑ روپے؛ 3% اضافہ۔ |
| اسٹینڈ اَلون پہلی ششماہی کا ٹیکس کے بعد منافع | H1 FY27: 300 کروڑ روپے؛ H1 FY26: 324 کروڑ روپے؛ 7% کمی۔ |
CNG کی طلب سے گیس کے حجم میں توسیع
اسٹینڈ اَلون کمپریسڈ نیچرل گیس اور پائپڈ نیچرل گیس کا حجم 315 ملین معیاری مکعب میٹر تک پہنچ گیا، جو سال بہ سال 12% زیادہ ہے۔ CNG کے حجم میں PNG کے مقابلے میں تیز رفتار اضافہ ہوا، اس لیے گاڑیوں کے ایندھن کی طلب اس اضافے میں زیادہ مضبوط کردار ادا کرنے والی عامل رہی۔
اڈانی ٹوٹل گیس نے سہ ماہی کے دوران 16 CNG اسٹیشنز کا اضافہ کیا، جس سے اس کا اسٹینڈ اَلون نیٹ ورک 723 اسٹیشنز تک پہنچ گیا۔ اس نے گھریلو PNG کے 39,574 کنکشنز بھی شامل کیے، جس سے مجموعی تعداد تقریباً 1.18 ملین ہوگئی، جبکہ صنعتی اور تجارتی کنکشنز کی تعداد 10,864 تک پہنچ گئی۔
اس کے جوائنٹ وینچر، انڈین آئل-اڈانی گیس پرائیویٹ لمیٹڈ، کو شامل کرنے پر مجموعی حجم 18% بڑھ کر 529 ملین معیاری مکعب میٹر ہوگیا۔ اس وسیع تر نیٹ ورک میں 1,185 CNG اسٹیشنز اور 1.43 ملین سے زیادہ گھریلو PNG کنکشنز شامل تھے۔ جوائنٹ وینچر سمیت یہ مجموعی اعداد اسٹینڈ اَلون آپریٹنگ اعداد و شمار سے الگ ہیں۔
EV چارجنگ اور بایوماس آپریشنز میں وسعت
اڈانی ٹوٹل انرجیز ای-موبیلیٹی کے 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 225 شہروں میں 5,513 چارجنگ پوائنٹس نصب تھے۔ ان میں سے 4,809 فعال تھے، جن کی نصب شدہ گنجائش تقریباً 63 MW تھی۔ اس طرح نصب شدہ چارجنگ پوائنٹس کی تعداد استعمال کے لیے دستیاب پوائنٹس سے زیادہ رہی۔
اڈانی ٹوٹل انرجیز بایوماس نے FY27 کی پہلی ششماہی میں 460 ٹن کمپریسڈ بایوگیس فروخت کی، جس میں 195 ٹن مخصوص اسٹیشنز کے ذریعے اور باقی تیسرے فریق کو فروخت کی گئی۔ نامیاتی کھاد کی فروخت 6,865 ٹن سے تجاوز کرگئی، جس میں ہریت امرت برانڈ کے تحت 1,757 ٹن سے زیادہ فروخت شامل تھی۔
قیادت کی تبدیلی نومبر میں طے
پنڈیتا کو یکم نومبر 2026 سے تین سال کے لیے اضافی ڈائریکٹر اور کل وقتی ڈائریکٹر، نامزد بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری شیئر ہولڈرز کی منظوری سے مشروط ہے۔ وہ CEO کا عہدہ بھی برقرار رکھیں گے۔
یہ تقرری سریش پی. منگلانی کی 31 اکتوبر 2026 کو کاروباری دن کے اختتام پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اہم انتظامی عہدے دار کے طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد عمل میں آئے گی۔
اڈانی ٹوٹل گیس کے حصص 22 اکتوبر کو NSE پر 555.50 روپے پر بند ہوئے، جو 559.40 روپے سے 0.70% کم تھے۔ اس تاریخ تک سال کے دوران حصص میں 6.50% کمی ہوئی تھی۔
نتیجہ
گیس کی طلب اور نیٹ ورک کی توسیع نے سہ ماہی نمو کو سہارا دیا، لیکن بلند لاگت کے باعث منافع کی نمو آمدنی کی نمو سے خاصی کم رہی۔ اگلی طے شدہ کارپوریٹ تبدیلی 31 اکتوبر کو منگلانی کی ریٹائرمنٹ ہے، جس کے بعد یکم نومبر کو پنڈیتا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور CEO کے مشترکہ عہدے پر آنے کا منصوبہ ہے۔
مزید خبریں پڑھیں
اعلانِ دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر توثیق نہیں ہے۔




