تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد سری لنکا کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی توسیع زیادہ فوری ضرورت بن گئی ہے، لیکن ترسیلی نظام کی رکاوٹیں، شمسی توانائی کی قیمتیں اور ونڈ فارمز کی مخالفت اس منتقلی کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اکتوبر 2026 میں وزیر توانائی انورا کروناتھیلاکا نے کہا کہ حکومت اس تبدیلی کی رفتار تیز کرنا چاہتی ہے، تاہم خبردار کیا کہ بنیادی ڈھانچہ ابھی مکمل طور پر فوسل ایندھن سے بجلی کی پیداوار کی جگہ لینے کے لیے تیار نہیں۔
اہم نکات
- سری لنکا 2030 تک بجلی کا 70% قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کے اپنے موجودہ ہدف سے آگے جانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
- گرڈ کی رکاوٹیں اور دن کے وقت شمسی بجلی کی اضافی پیداوار اس بات کو محدود کر رہی ہیں کہ نظام کتنی قابلِ تجدید بجلی جذب کر سکتا ہے۔
- حکومت ترسیلی نظام میں بہتری، بیٹری اسٹوریج اور شمسی بجلی کی قیمتوں کے مجوزہ ازسرِنو جائزے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
فہرستِ مضامین
- تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں کے بعد قابلِ تجدید توانائی کے عزائم میں اضافہ
- گرڈ کی گنجائش فوری رکاوٹ ہے
- شمسی توانائی کی قیمتوں میں اصلاح سے لاگت برداشت کرنے والوں کی صورتحال بدلے گی
- ونڈ منصوبوں کو مقامی مخالفت کا سامنا
- نتیجہ
تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں کے بعد قابلِ تجدید توانائی کے عزائم میں اضافہ
سری لنکا اپنی تیل اور گیس کی تمام ضروریات درآمد کرتا ہے، جس کے باعث ملکی معیشت بین الاقوامی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔ ایندھن، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ راشن بندی نے بھی ایسے ملک پر دباؤ بڑھایا ہے جو 2022 کے معاشی بحران سے اب تک بحالی کے مرحلے میں ہے۔
کروناتھیلاکا نے کہا کہ سری لنکا کو 2030 تک 70% بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کے اپنے موجودہ ہدف سے آگے جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس وقت قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ تقریباً 60% ہے، جس میں تقریباً 40% پن بجلی سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ ہدف تیل کی قیمتوں کے تازہ ترین جھٹکے سے پہلے مقرر کیا گیا تھا۔ کابینہ کا قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کی ترقی کا منصوبہ 2025–2030، جس کی 2 فروری 2026 کو منظوری دی گئی، 70% کا ہدف مقرر کرتا ہے اور موزوں زمین، وسائل کی نقشہ بندی اور قابلِ تجدید توانائی پارکوں کی ترقی کا احاطہ کرتا ہے، جن میں تیرتے ہوئے شمسی منصوبے بھی شامل ہیں۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی تخمینی صلاحیت | 30 گیگاواٹ |
| شمسی توانائی کی صلاحیت کا ہدف | 2029 تک تقریباً 4,400 میگاواٹ، وزیر کے مطابق |
| شمسی توانائی کی توسیع کا تقابل | 2029 کا ہدف 2024 کے مقابلے میں 388% اضافہ ظاہر کرتا ہے |
| طویل مدتی قابلِ تجدید توانائی کا ہدف | 10–15 سال میں 90–95%، ساتھ ہی کوئلے اور نیفتھا کے استعمال میں کمی |
گرڈ کی گنجائش فوری رکاوٹ ہے
وزیر نے ترسیلی گنجائش، گرڈ کے کنٹرول اور رسد و طلب میں اتار چڑھاؤ کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔ 2027 سے ترسیلی نیٹ ورک کی پانچ بڑی لائنیں بچھانے کا منصوبہ ہے، اگرچہ ان کے مطابق یہ اضافہ بھی اکیلا کافی نہیں ہوگا۔
گھروں اور کاروباری اداروں پر شمسی پینل تیزی سے نصب ہونے کے باعث ایسے اوقات پیدا ہوئے ہیں جب دن کے وقت بجلی کی پیداوار طلب سے بڑھ جاتی ہے۔ کروناتھیلاکا نے کہا کہ نظام کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے آپریٹرز بعض اوقات شمسی بجلی گھروں کی پیداوار محدود کر دیتے ہیں۔
اکتوبر 2026 میں قومی گرڈ کے ٹرپ ہونے کے بعد پورے جزیرے میں چھ گھنٹے کی بجلی بندش ہوئی۔ اضافی شمسی پیداوار کو اس کی ممکنہ وجہ بتایا گیا، تاہم یہ کوئی ثابت شدہ نتیجہ نہیں تھا۔ حکومت پیداوار اور کھپت کے درمیان عدم توازن سنبھالنے میں مدد کے لیے بیٹری اسٹوریج بڑھانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
شمسی توانائی کی قیمتوں میں اصلاح سے لاگت برداشت کرنے والوں کی صورتحال بدلے گی
کروناتھیلاکا نے کہا کہ حکومت شمسی بجلی کے لیے ایک نیا مالیاتی ماڈل تجویز کرے گی۔ ان کے بیان کردہ انتظام کے تحت نجی پیداوار کنندگان دن کے وقت بجلی گرڈ کو فراہم کر سکتے ہیں اور رات کے وقت، جب بجلی زیادہ مہنگی ہوتی ہے، اس کے مساوی مقدار بغیر معاوضے کے واپس لے سکتے ہیں۔
وزیر نے اس انتظام کو مالی طور پر غیر پائیدار قرار دیا اور کہا کہ اضافی لاگت ریاست برداشت کرتی ہے۔ ان کی مجوزہ اصلاح کا مقصد شمسی بجلی پیدا کرنے والوں اور صارفین کے مفادات میں توازن پیدا کرنا ہے؛ انہوں نے متبادل نرخ یا نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی۔
توسیعی منصوبے کے لیے یہ فرق اہم ہے: مزید پینل لگانے سے ممکنہ پیداوار بڑھتی ہے، لیکن قیمتوں کا طریقۂ کار، اسٹوریج اور گرڈ کی گنجائش طے کرتے ہیں کہ اس بجلی کو کتنی مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ونڈ منصوبوں کو مقامی مخالفت کا سامنا
شمال مغربی جزیرہ نما منار میں رہائشی 2020 سے کام کرنے والی ٹربائنوں کو سیلاب، مچھلیوں کی سرگرمی میں کمی اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کو لاحق خطرات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ مقامی برادری کے خدشات ہیں، نہ کہ وزیر کی جانب سے پیش کردہ ثابت شدہ نتائج۔
کروناتھیلاکا نے کہا کہ منار میں صرف وہی منصوبے آگے بڑھیں گے جن کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے یا جن پر تعمیراتی کام جاری ہے، جبکہ آئندہ ونڈ فارمز کہیں اور قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کوئلے اور نیفتھا کی مکمل جگہ لینے کے لیے سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچہ ابھی کافی نہیں۔
نتیجہ
منصوبہ بند بنیادی ڈھانچے کا اگلا مرحلہ 2027 میں ترسیلی نظام کی توسیع ہے۔ سری لنکا کے قابلِ تجدید توانائی کے عزائم کا انحصار بیٹریوں میں سرمایہ کاری اور شمسی توانائی کے قیمتوں کے مجوزہ ماڈل کی تفصیلات پر بھی ہوگا، جس کے نفاذ کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
یہ FinanceVelix مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کی مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشاورت نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد پر مبنی ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت کے وقت کسی اہل پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر توثیق نہیں ہے۔




