Nasdaq نے Dometic (DOM) اور Scatec (SCATC) کے ڈیریویٹوز کے لیے تناؤ زدہ مارکیٹ حالات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مارکیٹ میکرز معمول کے اسپریڈ سے دوگنا اسپریڈ پر قیمتیں دے سکتے ہیں۔ Nasdaq Europe Market Notices کی جانب سے 22 اکتوبر 2026 کو شائع کردہ نوٹس 221/26 کے مطابق، یہ فیصلہ چار گھنٹوں کے لیے نافذ ہے۔
اہم نکات
- یہ درجہ بندی Dometic اور Scatec کے ڈیریویٹوز پر لاگو ہوتی ہے۔
- مارکیٹ میکرز کو معمول کے اسپریڈ سے دوگنا اسپریڈ پر قیمتیں دینے کی اجازت ہے۔
- Nasdaq چار گھنٹوں کے بعد حالات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فہرستِ مضامین
تناؤ زدہ مارکیٹ حالات سے مجاز اسپریڈ بڑھ گئے
فوری تبدیلی اس اسپریڈ میں ہے جس پر مارکیٹ میکرز متاثرہ ڈیریویٹوز میں قیمتیں دینے کے مجاز ہیں۔ نوٹس معمول کے اسپریڈ سے دوگنا اسپریڈ کی اجازت دیتا ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام قیمتوں کے اسپریڈ اس حد تک بڑھ چکے ہیں۔
Nasdaq کا کہنا ہے کہ جب بنیادی اثاثے میں مختصر مدت کے دوران دن کے اندر زیادہ اتار چڑھاؤ ہو، یا دیگر عوامل ڈیریویٹوز کی قیمتوں کے تعین میں نمایاں غیر یقینی پیدا کریں، تو وہ تناؤ زدہ مارکیٹ حالات قرار دیتا ہے۔ اعلان میں Dometic یا Scatec کے لیے کسی مخصوص محرک کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
چار گھنٹے کی مدت کے بعد ازسرِنو جائزہ
چار گھنٹے کی مدت کے اختتام پر Nasdaq جائزہ لے گا کہ آیا مارکیٹ کے حالات اب بھی اس درجہ بندی کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا نوٹس میں جائزے کا انتظام ہے، نہ کہ اس کی تصدیق کہ یہ اقدام چار گھنٹے بعد خودکار طور پر ختم ہو جائے گا۔
اعلان میں رابطے کی تفصیلات کے لیے قارئین کو ساتھ منسلک PDF دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نتیجہ
اس فیصلے کے تحت DOM اور SCATC کے ڈیریویٹوز کے لیے قیمتیں دینے کے مجاز اسپریڈز میں عارضی اضافہ کیا گیا ہے؛ اس اقدام کے جاری رہنے کا انحصار چار گھنٹے بعد Nasdaq کے جائزے پر ہوگا۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے رجوع کریں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر توثیق نہیں سمجھا جائے۔




