کمیونٹیلاگ ان کریں

شیئر کریں

کرپٹوکل مارکیٹ کیپ →

تعریف

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کسی اثاثے کے گردش میں موجود تمام یونٹس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو ہے: کرپٹو کرنسی میں موجودہ قیمت کو گردشی سپلائی سے، اور اسٹاک میں جاری شدہ حصص کی تعداد سے ضرب دے کر یہ حاصل ہوتی ہے۔

طریقۂ کار

اس کا فارمولا سادہ ہے: مارکیٹ کیپ = قیمت × گردشی سپلائی (اسٹاک کے لیے جاری شدہ حصص)۔ چونکہ دونوں عوامل بدلتے رہتے ہیں، اس لیے قیمت میں ہر تبدیلی کے ساتھ مارکیٹ کیپ بھی بدل جاتی ہے۔ یہ اس وقت بھی بدلتی ہے جب نئے کوائن یا حصص گردش میں آتے ہیں، یا جب برن (جلانے) یا بائی بیک کے ذریعے یونٹس ختم کیے جاتے ہیں۔

مارکیٹ کیپ زیادہ تر سائز کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ $0.01 قیمت والا کوائن مجموعی طور پر $500 قیمت والے کوائن سے زیادہ مالیت رکھ سکتا ہے اگر اس کے کہیں زیادہ یونٹس گردش میں ہوں، اس لیے صرف فی یونٹ قیمت سے یہ پتا نہیں چلتا کہ کوئی پروجیکٹ کتنا بڑا ہے۔ کرپٹو اور اسٹاک ڈیٹا سائٹس پر درجہ بندی عموماً مارکیٹ کیپ کے لحاظ سے ہوتی ہے، اور اثاثوں کو اکثر لارج کیپ، مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں تقسیم کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کی کوئی ایک سرکاری حد مقرر نہیں۔

مارکیٹ کیپ وہ رقم نہیں جو کسی اثاثے میں لگائی گئی ہو، اور نہ ہی وہ رقم ہے جو ہولڈرز سب کچھ بیچ کر حاصل کر سکیں۔ اگر بڑے ہولڈرز ایک ساتھ بیچنے کی کوشش کریں تو ان کے بیچنے کے دوران ہی قیمت گر جائے گی۔ کرپٹو میں فلی ڈائلیوٹڈ ویلیوایشن دیکھنا بھی مفید ہے، جس میں وہ کوائن بھی شمار ہوتے ہیں جو ابھی گردش میں نہیں آئے۔

مثال (فرضی اعداد)

فرض کریں کوائن A کی قیمت $2 ہے اور اس کے 500,000,000 کوائن گردش میں ہیں۔

مارکیٹ کیپ = $2 × 500,000,000 = $1,000,000,000۔

کوائن B کی قیمت $40 ہے اور اس کے 10,000,000 کوائن گردش میں ہیں: $40 × 10,000,000 = $400,000,000۔

کوائن B کی فی کوائن قیمت زیادہ ہے، لیکن مارکیٹ کیپ کے لحاظ سے کوائن A بڑا اثاثہ ہے۔

عام غلطیاں

  • کسی کوائن کو اس کی مارکیٹ کیپ کے بجائے فی یونٹ قیمت دیکھ کر سستا یا مہنگا کہنا۔
  • یہ سمجھنا کہ مارکیٹ کیپ اس نقد رقم کے برابر ہے جو اثاثے میں آئی ہے۔
  • ان کوائنز کو نظرانداز کرنا جو بعد میں انلاک ہوں گے، جن سے سپلائی بڑھ سکتی ہے اور موجودہ ہولڈرز کا حصہ کم (ڈائلیوٹ) ہو سکتا ہے۔

متعلقہ کیلکولیٹرز

یہ لغت صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہے اور سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں ہے۔ مثالوں میں فرضی اعداد استعمال کیے گئے ہیں۔

لغت کی تمام اصطلاحات