بھارت کی سپریم کورٹ نے تمل ناڈو اور کرناٹک میں آن لائن گیمنگ پر پابندیوں کو برقرار رکھنے کے اپنے فیصلے پر نظرِثانی کے لیے گیمنگ کمپنیوں کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ 27 مئی 2026 کے فیصلے میں کہا گیا کہ ریاستیں پیسے یا دیگر داؤ پر کھیلے جانے والے آن لائن کھیلوں، بشمول مہارت کے کھیلوں، پر پابندی لگا سکتی ہیں۔
اہم نکات
- نظرِثانی کی درخواستیں گیمنگ کمپنیوں نے دائر کی تھیں، جن کی قیادت جنگلی گیمز انڈیا کر رہی تھی۔
- اس فیصلے سے ریاستی قوانین برقرار رہتے ہیں، جنہیں مہارت پر مبنی کھیلوں کے آپریٹرز نے چیلنج کیا تھا، جن میں داؤ پر کھیلی جانے والی آن لائن رمی اور پوکر شامل ہیں۔
- ماخذ میں پابندیوں کے نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
آن لائن گیمنگ پر پابندیاں برقرار
جسٹس جے بی پارڈی والا اور آر مہادیون نے کہا کہ انہیں نظرِثانی کی درخواستوں میں کوئی میرٹ نظر نہیں آیا۔ درخواستیں مسترد ہونے سے مئی کا ان کا فیصلہ برقرار رہتا ہے، نہ کہ کوئی نئی پابندی عائد ہوتی ہے۔
اس فیصلے میں عدالت نے ریاستی قوانین کو برقرار رکھا، جن کے تحت شرط، پیسے یا کسی اور داؤ پر کھیلے جانے والے آن لائن کھیلوں کو جرم قرار دیا گیا ہے، قطع نظر اس کے کہ ان کھیلوں میں مہارت شامل ہے یا نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب ایسے کھیل عوامی بہبود اور امنِ عامہ کے لیے خطرہ بنیں تو ریاستیں کارروائی کر سکتی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ شرط اور جوئے کی سرگرمیاں چلانے کے لیے کسی بنیادی حق کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ایک بار شرط اور جوا شامل ہو جائیں تو کھیل کی نوعیت غیر متعلق ہو جاتی ہے۔
کمپنیوں نے کس چیز کو چیلنج کیا
سپریم کورٹ کا مئی کا فیصلہ دونوں ریاستوں کی اپیلوں کے بعد آیا، جن میں ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا جنہوں نے ان کی پابندیاں کالعدم قرار دی تھیں۔ مدراس ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کے 2021 کے اس قانون کو مسترد کر دیا تھا جس میں داؤ پر کھیلی جانے والی آن لائن رمی اور پوکر جیسے کھیلوں پر پابندی تھی، جبکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے مہارت پر مبنی آن لائن کھیلوں پر ریاست کی پابندی ختم کر دی تھی۔
جنگلی گیمز، پلے گیمز24x7، ہیڈ ڈیجیٹل ورکس اور صنعتی انجمنوں نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کی حمایت کی تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ مہارت کے کھیل، اتفاقی کھیلوں سے مختلف ہیں اور ریاستوں کو مہارت پر مبنی کھیلوں کے بارے میں قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
ریاستی حکومتوں نے کہا کہ امنِ عامہ کے تحفظ کے لیے پابندیاں ضروری ہیں، اور اس ضمن میں سائبر جرائم اور خاندانوں کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریاستی قوانین کو تجرباتی اعداد و شمار کی تائید حاصل ہے، جو کمپنیوں کے دعوے کے برعکس ہے۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ کریں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔





تبصرے
احترام سے پیش آئیں۔ اسپیم، کسی اور کی شناخت اختیار کرنا یا نجی رسائی کی معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ عام پوسٹس اور تبصرے فوراً ظاہر ہوتے ہیں؛ مشکوک لنکس جائزے کے لیے روک لیے جاتے ہیں۔
براہ کرم انتظار کریں...