مہاراشٹر میں خشک سالی کے پیشِ نظر حزبِ اختلاف کی جماعت این سی پی (ایس پی) نے تعمیراتی منصوبوں کے لیے پانی کی فراہمی روکنے اور متاثرہ کسانوں کی امداد بڑھا کر دیوالی سے پہلے کم از کم 25,000 روپے فی کسان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہم نکات
- ریاستی حکومت نے مہاراشٹر کے 358 تعلقوں میں سے 305 میں خشک سالی کا اعلان کیا ہے۔
- این سی پی (ایس پی) کے رہنماؤں نے کہا کہ تعمیراتی منصوبوں کے مقابلے میں پینے کے پانی اور زراعت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
- جماعت چاہتی ہے کہ اعلان کردہ 5,000 روپے فی کسان امدادی ادائیگی بڑھا کر کم از کم 25,000 روپے کی جائے۔
مہاراشٹر کی خشک سالی نے پانی کی تقسیم کو توجہ کا مرکز بنا دیا
یہ مطالبات 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آئے، جس کی صدارت این سی پی (ایس پی) کے صدر شرد پوار نے کی۔ اجلاس میں جماعت کے رہنماؤں نے خشک سالی کا جائزہ لیا اور آنے والے مہینوں کے لیے اقدامات پر بات کی۔
جماعت کے رہنما جتیندر اوہاڈ نے تعمیراتی کمپنیوں کو پانی کی فراہمی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ممبئی اور تھانے میں تعمیراتی کاموں کے لیے پانی کی فراہمی بند کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں اور کسانوں کو تجارتی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
ایک اور رہنما ششیکانت شندے نے الزام لگایا کہ پانی کی تقسیم کی کمیٹیوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے فیصلے سیاسی دباؤ میں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پانی کی تقسیم کے طے شدہ قواعد پر عمل کرے اور پینے کے پانی کو ترجیح دے۔
کسانوں کے لیے امداد اور مویشیوں کی مدد کا مطالبہ
شندے نے ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 5,000 روپے فی کسان امداد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے دیوالی سے پہلے کم از کم 25,000 روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ یہ زیادہ رقم حزبِ اختلاف کا مطالبہ ہے، حکومت کی جانب سے امداد بڑھانے کا اعلان نہیں۔
انہوں نے مویشیوں کے لیے چارہ اور دیکھ بھال فراہم کرنے کی غرض سے مویشی کیمپ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ شندے نے مائیکروفنانس کمپنیوں اور دیگر قرض دہندگان کے خلاف کارروائی پر زور دیا، جن پر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ خشک سالی کے دوران جبری وصولی نہ کرنے سے متعلق ریاستی ہدایات کے باوجود چھوٹے قرضوں کی واپسی کے لیے کسانوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور اقتصادی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب معلومات کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی اہل پیشہ ور سے مشورہ کریں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر توثیق نہیں ہے۔





تبصرے
احترام سے پیش آئیں۔ اسپیم، کسی اور کی شناخت اختیار کرنا یا نجی رسائی کی معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ عام پوسٹس اور تبصرے فوراً ظاہر ہوتے ہیں؛ مشکوک لنکس جائزے کے لیے روک لیے جاتے ہیں۔
براہ کرم انتظار کریں...