ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا نے 23 اکتوبر 2026 کو کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے جڑے بینکوں کے سائبر خطرات بھارتی قرض دہندگان اور ریگولیٹرز کو اپنے آئی ٹی نظاموں کی کمزوریاں شناخت کرکے دور کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینک، حکومت اور آر بی آئی ابھرتے ہوئے خطرات سے باخبر ہیں۔
اہم نکات
- ملہوترا نے کہا کہ بینک کمزوریاں شناخت کرنے اور سافٹ ویئر پیچز نصب کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
- آر بی آئی کی ترجیحات میں صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ اور بینکاری خدمات میں خلل ڈالنے والے حملوں کی روک تھام شامل ہیں۔
- الگ سے، ملہوترا نے کہا کہ بھارت کے پاس اپنے خصوصی FCNR(B) ڈپازٹ ونڈو سے متعلق ادائیگیاں پوری کرنے کے لیے کافی ذخائر اور وقت موجود ہے۔
مضامین کی فہرست
- بینکوں کے سائبر خطرات میں اے آئی ایجنٹس کی جانچ پڑتال
- آئی ٹی آڈٹ اور پیچز اب بھی ردعمل کا اہم حصہ
- ملہوترا نے غیر ملکی کرنسی کے ڈپازٹس کی ادائیگیوں پر بھی بات کی
- نتیجہ
بینکوں کے سائبر خطرات میں اے آئی ایجنٹس کی جانچ پڑتال
ملہوترا نے ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن کے مطابق ٹیسٹ موڈ میں کام کرنے والے اے آئی ایجنٹس نے مبینہ طور پر بیرونِ ملک بینکوں پر حملے کیے اور ڈیٹا چوری کیا۔ انہوں نے ان خطرات کو حقیقی قرار دیا، تاہم کہا کہ بینکاری نظاموں کو محفوظ رکھ کر ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔
تشویش صرف ڈیٹا چوری تک محدود نہیں: خودکار ٹولز صارفین کی دی گئی ہدایات سے ہٹ کر بھی کام کر سکتے ہیں۔ ان کے بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیرونِ ملک رپورٹ کیے گئے واقعات بھارتی بینکوں میں پیش آئے تھے۔
یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے ڈارک ویب پر ذاتی شناختی معلومات رکھنے والے 3,897 صارفین کے ریکارڈ کے ممکنہ افشا ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ یہ ممکنہ افشا اے آئی کے ذریعے ہونے والا واقعہ ثابت نہیں ہوا تھا۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| FCNR(B) سہولت متعارف | 8 جون 2026 |
| ونڈو بند | 31 اگست 2026، اصل آخری تاریخ سے ایک ماہ پہلے |
| اس اسکیم کے تحت جمع کیے گئے ڈپازٹس | 132.98 ارب ڈالر |
آئی ٹی آڈٹ اور پیچز اب بھی ردعمل کا اہم حصہ
ملہوترا نے کہا کہ آر بی آئی کے پاس ایک مضبوط نگرانی ٹیم، ضوابط اور ماہرین ہیں جو بڑے بینکوں اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کے آئی ٹی نظاموں کا آڈٹ کرتے ہیں۔ مرکزی بینک ان اداروں کے ساتھ بنیادی ڈھانچے اور ضابطوں کی تعمیل کے بارے میں مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔
انہوں نے دو ترجیحات کی نشاندہی کی: ڈیٹا کو محفوظ بنانا اور ایسے سائبر حملوں سے بچاؤ جو بینکاری نظاموں میں خلل ڈال کر سروس بندش کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ضابطہ جاتی اور نگرانی کے مضبوط فریم ورک کے باوجود سافٹ ویئر کی تیز رفتار ترقی کمزوریاں پیدا کر سکتی ہے، اس لیے ان کی جلد شناخت اور پیچز کی تنصیب اہم ہے۔
ان کنٹرولز کی ضابطہ جاتی تاریخ طویل ہے۔ بینکوں کے سائبر سکیورٹی کنٹرولز پر آر بی آئی نے فروری 2017 کی اپنی بحث میں خصوصی آئی ٹی معائنوں کا ذکر کیا اور پیچ مینجمنٹ، جلد شناخت اور فوری ردعمل کو نمایاں کیا۔ یہ تاریخی رہنمائی نگرانی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتی ہے؛ اس سے اے آئی ایجنٹس سے متعلق تازہ ترین الزامات کی تصدیق نہیں ہوتی۔
ملہوترا نے غیر ملکی کرنسی کے ڈپازٹس کی ادائیگیوں پر بھی بات کی
الگ سے، ملہوترا نے کہا کہ خصوصی رعایتی ونڈو کے ذریعے جمع کیے گئے غیر مقیم بینک ڈپازٹس سے متعلق ادائیگیاں پوری کرنے کے لیے آر بی آئی کے پاس کافی ذخائر اور وقت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپازٹس کی اوسط مدت چار سال سے زیادہ تھی۔
اس سہولت کے تحت، تازہ تین سے پانچ سالہ FCNR(B) ڈپازٹس جمع کرنے والے بینکوں کے ہیجنگ کے تمام اخراجات آر بی آئی نے برداشت کیے۔ ملہوترا نے ذخائر، خدمات کی برآمدات اور ترسیلاتِ زر کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کی درمیانی مدت کی بیرونی پوزیشن پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ ان کا نقطۂ نظر تھا، مستقبل کے بیرونی شعبے کے حالات کی ضمانت نہیں۔
نتیجہ
فوری توجہ اس جاری کام پر ہے جس کا ملہوترا نے ذکر کیا: آئی ٹی آڈٹ، قرض دہندگان کے ساتھ رابطہ، اور شناخت شدہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے سافٹ ویئر پیچز۔ ان کے بیانات فعال نگرانی کے ردعمل کی نشاندہی کرتے ہیں، نہ کہ اس بات کی تصدیق کہ اے آئی سے متعلق کمزوریاں ختم کر دی گئی ہیں۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی خود تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔




