21 اکتوبر 2026 کو بھارت میں بانڈ ییلڈ میں اضافہ ہوا اور بینچ مارک 10 سالہ ییلڈ 7.44% پر بند ہوئی، جو مارچ 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں نے افراطِ زر سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا۔ الگ سے، مختصر مدت کی ییلڈز پر دباؤ کے باعث ریزرو بینک آف انڈیا نے 23,000 کروڑ روپے کی مجوزہ ٹریژری بل نیلامی میں تمام بولیاں مسترد کردیں۔
اہم نکات
- بینچ مارک 10 سالہ ییلڈ گزشتہ اختتامی سطح 7.39% سے پانچ بیسس پوائنٹس بڑھ گئی۔
- آر بی آئی نے ٹریژری بل فروخت میں کوئی بولی قبول نہیں کی؛ تاجروں نے بولی دہندگان کی جانب سے زیادہ ییلڈز کے مطالبے کا حوالہ دیا۔
- برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے سے بھارت کی افراطِ زر اور کرنسی سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔
فہرستِ مضامین
- بھارت میں بانڈ ییلڈ ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر
- مختصر مدت کی ییلڈز بڑھنے پر آر بی آئی نے بولیاں مسترد کردیں
- تیل کی بلند قیمتیں بھارتی بانڈز کے لیے کیوں اہم ہیں
- نتیجہ
بھارت میں بانڈ ییلڈ ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر
سی سی آئی ایل کے اعداد و شمار کے مطابق، بینچ مارک کی اختتامی ییلڈ گزشتہ سیشن کے 7.39% کے مقابلے میں 7.44% رہی۔ پانچ بیسس پوائنٹس کا یہ اضافہ 0.05 فیصد پوائنٹ کے اضافے کے برابر ہے۔ بانڈ کی قیمتیں ییلڈ کے برعکس سمت میں حرکت کرتی ہیں، اس لیے ییلڈ میں اضافے سے قیمتوں میں کمزوری ظاہر ہوئی۔
دسہرہ کے باعث منگل کو بھارتی مارکیٹیں بند تھیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، جبکہ منگل کو تقریباً 112 ڈالر تک پہنچنے کے بعد یہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ پیر کو بھارتی مارکیٹیں بند ہونے کے وقت تیل کی قیمت تقریباً 107 ڈالر تھی۔
آر بی ایل بینک کے سربراہِ خزانہ انشول چندک نے تیل کی بلند قیمتوں، عالمی ییلڈز کے دباؤ اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت کو بانڈ مارکیٹ کے لیے منفی عوامل قرار دیا۔
| مدت | تفصیل |
|---|---|
| پیش کردہ سب سے مختصر بل | 91 روزہ ٹریژری بل |
| پیش کردہ درمیانی مدت کا بل | 182 روزہ ٹریژری بل |
| پیش کردہ سب سے طویل بل | 364 روزہ ٹریژری بل |
مختصر مدت کی ییلڈز بڑھنے پر آر بی آئی نے بولیاں مسترد کردیں
حکومت نے بدھ کی ٹریژری بل نیلامی کے ذریعے 23,000 کروڑ روپے جمع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ آر بی آئی کی جانب سے ہر بولی مسترد کیے جانے کے باعث اس فروخت کے ذریعے مجوزہ قرض گیری مکمل نہ ہوسکی۔ اس سے پہلے ایسی منسوخی جون کے اوائل میں ہوئی تھی۔
ایک بڑے سرکاری بینک کے تاجر نے بتایا کہ بینکوں نے گزشتہ ہفتے کی نیلامی کے مقابلے میں کم از کم 15 بیسس پوائنٹس زیادہ ییلڈ پر بولیاں جمع کرائیں۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ مطلوبہ ییلڈز مرکزی بینک کی قابلِ قبول حد سے زیادہ تھیں؛ یہ ان کی تشریح تھی، آر بی آئی کی جانب سے بیان کردہ وجہ نہیں۔
چندک نے کہا کہ مارکیٹ کی قیمت بندی دسمبر میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کے اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور انہوں نے نیلامی میں بولیاں مسترد کیے جانے کو اس مؤقف کی تائید سے تعبیر کیا۔ ان کا اندازہ مارکیٹ کی توقع تھا، اعلان کردہ پالیسی فیصلہ نہیں۔
تیل کی بلند قیمتیں بھارتی بانڈز کے لیے کیوں اہم ہیں
بھارت تیل کا خالص درآمد کنندہ ہے، اس لیے خام تیل کی بلند قیمتیں افراطِ زر اور روپے، دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ توانائی کی مہنگی درآمدات ملکی اخراجات بڑھا سکتی ہیں اور کرنسی پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، جس سے شرحِ سود کے منظرنامے کا اندازہ لگانا پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
جون 2023 کے آر بی آئی بلیٹن میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں اور بھارت کی معیشت پر مطالعہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی اشیا کی قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے، جبکہ جاری کھاتے اور شرحِ تبادلہ پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ تحقیق اثرات کے راستوں کا پس منظر فراہم کرتی ہے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس سیشن میں ییلڈ کی حرکت کی وجہ یہی تھی۔
نتیجہ
بینچ مارک ییلڈ میں اضافے اور بل نیلامی کی بولیاں مسترد ہونے سے طویل اور مختصر، دونوں مدت کے سرکاری قرض پر دباؤ ظاہر ہوا۔ قرض گیری کے حالات کا اگلا امتحان بعد کی نیلامیوں کے نتائج اور آر بی آئی کے پالیسی فیصلے ہوں گے؛ دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کی توقع تاجر کی رائے تھی، تصدیق شدہ اقدام نہیں۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔




