پیر، 26 اکتوبر 2026 کو ابتدائی کاروبار میں تیل کی قیمتیں گر گئیں اور گزشتہ ہفتے کے اواخر میں چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد نیچے آگئیں۔ سعودی عرب میں ہفتے کے اختتام پر مزید حملوں کے باوجود برینٹ اور امریکی خام تیل کے فیوچرز دونوں میں کمی ہوئی، جس سے توانائی کی رسد سے متعلق خدشات بدستور برقرار رہے۔
اہم نکات
- ابتدائی کاروبار میں برینٹ کی قیمت 115.16 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت کم ہو کر 101.67 ڈالر ہوگئی۔
- یہ کمی ہفتہ وار اضافے کے بعد آئی، جس میں برینٹ 6% اور ڈبلیو ٹی آئی 2.3% بڑھا تھا۔
- حوثیوں کے نئے حملوں کے دعووں اور سعودی عرب کی جانب سے حملے روکنے کی کارروائیوں نے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔
فہرستِ مضامین
مضبوط ہفتے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی
00:18 GMT پر امریکی خام تیل کے فیوچرز 1.60 ڈالر، یا 1.55%، نیچے تھے، جبکہ برینٹ فیوچرز میں 1.56 ڈالر، یا 1.34%، کی کمی ہوئی تھی۔ یہ کاروباری سیشن کے ابتدائی نرخ تھے، پیر کے اختتامی تصفیہ نرخ نہیں۔
جمعے کو دونوں بینچ مارک میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، کیونکہ سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں سے توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔ پیر کی کمی نے اس اضافے کا کچھ حصہ واپس لے لیا، لیکن صرف قیمتوں کی حرکت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رسد کو لاحق بنیادی خطرات کم ہوگئے تھے۔
ذیل کے اعدادوشمار پیر کے ابتدائی اتار چڑھاؤ کو مکمل ہفتہ وار کارکردگی سے الگ دکھاتے ہیں۔ برینٹ کا زیادہ ہفتہ وار اضافہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دونوں بینچ مارک ایک ہی رفتار سے نہیں بڑھے تھے۔
معاہدے کے پس منظر کے لیے، ICE کی برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی تفصیلات میں 1,000 بیرل کا ایسا معاہدہ بیان کیا گیا ہے جس کی قیمت امریکی ڈالر اور سینٹ فی بیرل میں ظاہر کی جاتی ہے۔ یہ شرائط بتاتی ہیں کہ بینچ مارک کی تجارت کیسے ہوتی ہے، نہ کہ تازہ ترین مارکیٹ قیمتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| برینٹ فیوچرز، 26 اکتوبر کو 00:18 GMT | 115.16 ڈالر فی بیرل؛ 1.56 ڈالر، یا 1.34%، کم۔ |
| امریکی خام تیل کے فیوچرز، 26 اکتوبر کو 00:18 GMT | 101.67 ڈالر فی بیرل؛ 1.60 ڈالر، یا 1.55%، کم۔ |
| برینٹ، 23 اکتوبر کو ختم ہونے والا ہفتہ | 6% اضافہ۔ |
| ڈبلیو ٹی آئی، 23 اکتوبر کو ختم ہونے والا ہفتہ | 2.3% اضافہ۔ |
ہفتے کے اختتام پر حملوں سے رسد کے خدشات برقرار
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ہفتے، 24 اکتوبر کو سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا۔ سعودی عرب نے اتوار کو کہا کہ اس نے مزید میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا ہے۔
سعودی عرب نے حملوں کے ایک پہلے دور میں ہونے والے نقصان کے بعد اتوار کو ایک ہوائی اڈے پر جزوی کارروائیاں بھی دوبارہ شروع کر دیں۔ حوثی گروپ نے اس تنصیب کو نشانہ بناتے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔
ان پیش رفتوں نے تیل برآمد کرنے والے بڑے ملک میں بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر توجہ برقرار رکھی۔ دستیاب معلومات میں خام تیل کی پیداوار یا برآمدات میں کسی کمی کی مقدار نہیں بتائی گئی، اس لیے ممکنہ خلل کے خدشات کو تیل کی رسد میں تصدیق شدہ کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔
نتیجہ
پیر کے اختتامی نرخ ظاہر کریں گے کہ آیا ابتدائی کمی برقرار رہتی ہے۔ رسد سے متعلق اہم سوال یہ ہے کہ آیا حملوں کے نتیجے میں خام تیل کی پیداوار یا برآمدات میں تصدیق شدہ خلل آتا ہے۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
FinanceVelix کا یہ مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد پر مبنی ہیں اور تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی اہل پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا سروس کا ذکر توثیق نہیں ہے۔




