اوپن اے آئی ریکارڈنگ کیس کا مرکز یہ الزام ہے کہ ایک انجینئر نے کمپنی کے حساس مباحثوں کے لیے استعمال ہونے والے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں آڈیو ریکارڈنگ کا آلہ چھپایا۔ امریکی محکمۂ انصاف نے 13 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ عبدالرحمن الفوزان کو گرفتار کیا گیا اور زبانی گفتگو کو روکنے کے لیے آلہ استعمال کرنے یا استعمال کرنے کی کوشش کے الزام میں ان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
اہم نکات
- الفوزان کو 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اور 13 اکتوبر 2026 کو وفاقی عدالت میں پہلی بار پیش کیا گیا۔
- استغاثہ کا الزام ہے کہ ایک خفیہ ریکارڈر ایسے کمرے کو نشانہ بنا رہا تھا جہاں خفیہ تکنیکی، تجارتی اور حکمتِ عملی سے متعلق گفتگو ہوتی تھی۔
- یہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا؛ محکمۂ انصاف کا اعلان سعودی حکومت کے ملوث ہونے کو ثابت نہیں کرتا۔
فہرستِ مضامین
- اوپن اے آئی ریکارڈنگ کیس خفیہ کاروباری گفتگو سے متعلق ہے
- شکایت میں رسائی سے متعلق پوچھ گچھ اور دوسرے آلے کا ذکر
- قانونی نتائج اور الزامات کی حدود
- نتیجہ
اوپن اے آئی ریکارڈنگ کیس خفیہ کاروباری گفتگو سے متعلق ہے
استغاثہ کے بیان کردہ فوجداری شکایت نامے کے مطابق، 35 سالہ سعودی شہری الفوزان جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ریکارڈنگ کے الزام سے متعلق محکمۂ انصاف کے اعلان میں انہیں سابق ملازم کے بجائے موجودہ ملازم بتایا گیا ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کے اہلکاروں کو سان فرانسسکو کے ایک دفتر کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹیلی وژن کے پیچھے یو ایس بی پورٹ میں لگا ہوا ریکارڈنگ آلہ ملا۔ مبینہ طور پر یہ آلہ ٹوائلٹ پیپر میں چھپایا گیا تھا اور اس کے مواد کو خفیہ کاری کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا۔
شکایت میں الزام ہے کہ اس کمرے میں اکثر ملکیتی تحقیق، مصنوعات کے منصوبوں، کاروباری ترقی کے مواقع اور غیر عوامی حکمتِ عملی کے فیصلوں پر گفتگو ہوتی تھی۔ اس بنا پر مبینہ واقعہ کمپنی کی خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق معاملہ بنتا ہے، تاہم اعلان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی معلومات ریکارڈ یا افشا ہوئی تھیں یا نہیں۔
| مدت | تفصیلات |
|---|---|
| 28 ستمبر 2026 | کانفرنس روم میں ریکارڈر نصب کیے جانے کی مبینہ اندازاً تاریخ۔ |
| 30 ستمبر 2026 | اوپن اے آئی کے اہلکاروں کی جانب سے خفیہ آلہ دریافت کیے جانے کی اندازاً تاریخ۔ |
| 5 اکتوبر 2026 | سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے الفوزان کے بیگ میں دوسرا آلہ ملنے کی مبینہ اندازاً تاریخ۔ |
| 19 اکتوبر 2026 | محکمۂ انصاف کے اعلان کی تازہ کاری کی تاریخ، نہ کہ گرفتاری یا عدالت میں پہلی پیشی کی تاریخ۔ |
شکایت میں رسائی سے متعلق پوچھ گچھ اور دوسرے آلے کا ذکر
شکایت میں الزام ہے کہ آلہ نصب کیے جانے سے پہلے الفوزان نے ایک پیداواری صلاحیت کے آلے کے ذریعے دفتر کے پتے، میٹنگ رومز، کیلنڈرز اور ایگزیکٹوز کے مقامات کے بارے میں پوچھا۔ استغاثہ نے ان کے شریکِ حیات سے منسلک چیٹ بوٹ اکاؤنٹ سے ریکارڈنگ سے متعلق سوالات کا بھی ذکر کیا ہے؛ اس اکاؤنٹ کے شناختی نشانات اور خصوصیات ان کے اپنے اکاؤنٹ سے ملتی جلتی تھیں۔
مبینہ طور پر دفتر کی نگرانی کی ویڈیو میں الفوزان کو متعدد مواقع پر ایگزیکٹو کانفرنس روم کے قریب دیکھا گیا، حالانکہ انہیں وہاں جانے یا اس کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
استغاثہ کا مزید الزام ہے کہ اوپن اے آئی کے سکیورٹی اہلکاروں کو ایک لاوارث بیگ میں ریکارڈنگ کا اسی طرح کا آلہ ملا، جس میں الفوزان کا بٹوا اور شناختی دستاویزات بھی موجود تھیں۔ یہ بیانات استغاثہ کے مؤقف کا حصہ ہیں اور انہیں قصوروار ہونے کے عدالتی فیصلے کے طور پر ثابت نہیں کیا گیا۔
قانونی نتائج اور الزامات کی حدود
اگر الفوزان مجرم قرار پائے تو انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور 250,000 ڈالر جرمانے کے علاوہ تین سال زیرِ نگرانی رہائی کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ قانون میں مقررہ زیادہ سے زیادہ سزائیں ہیں، نہ کہ پہلے ہی سنائی جا چکی سزا۔
محکمۂ انصاف نے اس مقدمے کو حساس امریکی ٹیکنالوجی کے تحفظ کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔ تاہم، اعلان میں یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ الفوزان نے سعودی حکومت کی جانب سے کارروائی کی۔ صرف ان کی قومیت سے ایسا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
نتیجہ
ایف بی آئی تحقیقات کر رہی ہے اور الزامات کی عدالت میں جانچ ہونا باقی ہے۔ محکمۂ انصاف کے اعلان میں آئندہ سماعت کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
یہ FinanceVelix مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، ذاتی نوعیت کا مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ نہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد کی عکاسی کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند پیشہ ور سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر توثیق کے مترادف نہیں۔




