وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے اکتوبر 2026 میں برلن گلوبل ڈائیلاگ میں کہا کہ بھارت کے تجارتی معاہدے بالآخر ایسی شراکت دار معیشتوں کا احاطہ کر سکتے ہیں جن کا مجموعی جی ڈی پی 85 ٹریلین ڈالر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے پر 2026 کے اختتام سے پہلے دستخط متوقع ہیں اور یہ 2027 کی پہلی سہ ماہی میں نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
اہم نکات
- گوئل نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران 38 ممالک پر محیط نو معاہدے طے پائے ہیں۔
- 85 ٹریلین ڈالر کے اعداد و شمار میں جاری اور ممکنہ مذاکرات شامل ہیں، صرف مکمل شدہ معاہدے نہیں۔
- یورپی یونین کے معاہدے پر متوقع دستخط اور ممکنہ نفاذ مستقبل کے الگ الگ مراحل ہیں۔
فہرستِ مضامین
- بھارت کے تجارتی معاہدے شراکت دار معیشتوں کا دائرہ بڑھاتے ہیں
- یورپی یونین کے معاہدے کے لیے ابھی دستخط اور نفاذ کے مراحل باقی ہیں
- نتیجہ
بھارت کے تجارتی معاہدے شراکت دار معیشتوں کا دائرہ بڑھاتے ہیں
گوئل نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے دور میں بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک میں نمایاں توسیع کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق حال ہی میں طے پانے والے نو معاہدوں میں شامل ممالک کا مجموعی جی ڈی پی تقریباً 60 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ بھارت کے پہلے ایف ٹی اے کا مجموعی جی ڈی پی 10 ٹریلین ڈالر تھا۔
انہوں نے کہا کہ جاری اور ممکنہ مذاکرات اس دائرے کو 85 ٹریلین ڈالر مالیت کی معیشتوں تک بڑھا سکتے ہیں۔ یہ رقم ممکنہ تجارتی شراکت داروں کی معیشتوں کے حجم کو ظاہر کرتی ہے؛ یہ بھارتی برآمدات، اضافی تجارت یا ان معاہدوں سے پیدا ہونے والی آمدنی کا تخمینہ نہیں ہے۔
طے پانے والے معاہدوں اور ممکنہ مذاکرات کے درمیان فرق اہم ہے۔ بڑا عدد بھارت کے تجارتی نیٹ ورک کے ممکنہ دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ پہلے سے حاصل شدہ اور نافذ العمل مارکیٹ تک رسائی کی۔
| مد | تفصیلات |
|---|---|
| حالیہ معاہدوں کی تعداد | گوئل کے مطابق، نو۔ |
| معاہدوں میں شامل ممالک | ان معاہدوں میں مجموعی طور پر 38۔ |
| تعداد میں شامل مدت | گوئل کے بیان سے پہلے کے ساڑھے چار برس۔ |
یورپی یونین کے معاہدے کے لیے ابھی دستخط اور نفاذ کے مراحل باقی ہیں
یورپی کمیشن کا یورپی یونین-بھارت تجارتی مذاکرات کا جائزہ درج کرتا ہے کہ دونوں فریقوں نے 27 جنوری 2026 کو آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات مکمل کیے۔ اس سے مذاکراتی مرحلے کی تکمیل کی تصدیق ہوتی ہے، معاہدے کے نافذ العمل ہونے کی نہیں۔
گوئل کے بتائے گئے نظام الاوقات کے مطابق 2026 کے اختتام سے پہلے دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ممکنہ طور پر اسے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ یہ تاریخیں ان کی توقعات ہیں، مکمل شدہ مراحل یا نفاذ کا مصدقہ شیڈول نہیں۔
معاہدے کا جائزہ لینے والے کاروباری اداروں کے لیے مذاکرات کے طے شدہ نتیجے اور عملی معاہدے کے درمیان فرق اہم ہے۔ گوئل کے بیان سے نفاذ کی جانب پیش رفت ظاہر ہوتی ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ترجیحی تجارتی شرائط پہلے ہی دستیاب ہیں۔
نتیجہ
اگلا قابلِ توجہ مرحلہ 2026 کے اختتام سے پہلے بھارت-یورپی یونین معاہدے پر متوقع دستخط ہیں۔ 85 ٹریلین ڈالر کا وسیع تر ہدف جاری اور ممکنہ مذاکرات پر منحصر ہے۔
مزید خبریں پڑھیں
دستبرداری
یہ FinanceVelix مضمون عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، نہ کہ شخصی مالی، سرمایہ کاری، قانونی یا ٹیکس سے متعلق مشورہ۔ مارکیٹ کی قیمتیں، شرحِ سود اور معاشی حالات بدل سکتے ہیں؛ سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ حقائق اشاعت کے وقت دستیاب مواد پر مبنی ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اہم معلومات کی آزادانہ تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند ماہر سے مشورہ لیں۔ کسی اثاثے، کمپنی یا خدمت کا ذکر اس کی توثیق نہیں ہے۔




